مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عراق کی مزاحمتی تنظیم النجباء کے سیکریٹری جنرل شیخ اکرم الکعبی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عراقی وزیراعظم سے ملاقات کے دوران قومی شخصیات اور مقدسات سے متعلق مبینہ توہین آمیز بیانات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہید ابو مہدی المهندس اور شہید قاسم سلیمانی عراق اور مزاحمت کی علامت ہیں، جبکہ قابض افواج کو ملک سے نکال کر رہیں گے۔
شیخ اکرم الکعبی نے اپنے بیان میں کہا کہ شہید ابو مہدی المهندس، شہید قاسم سلیمانی اور دیگر شہداء عراق اور محور مزاحمت کے لیے عزت، وقار اور سربلندی کی علامت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی حکومت عراق کے لیے باعث شرمندگی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ براہ راست سرمایہ کاری کے نام پر عراق کے تیل اور قدرتی وسائل پر قبضہ جمانا چاہتا ہے، تاہم یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ عراق کو جھکایا نہیں جا سکتا کیونکہ اسلامی مزاحمت ہر وقت تیار ہے اور امریکی افواج کو عراق کی سرزمین اور فضائی حدود سے نکالنے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
شیخ اکرم الکعبی نے عراق کے بجلی کے بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2003ء کے بعد سے بجلی کے شعبے میں جاری مسائل کی ایک بڑی وجہ امریکی کمپنیوں کی کارکردگی رہی ہے، جنہوں نے بجلی کی تقسیم اور متعلقہ منصوبوں کا انتظام سنبھالا۔
انہوں نے عراقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مشکوک غیر ملکی کمپنیوں کو ملک سے نکال کر ان کی جگہ معتبر اور قابل اعتماد کمپنیوں کو ذمہ داریاں سونپی جائیں، تاکہ بیرونی بدعنوانی کا خاتمہ اور بجلی کے شعبے میں حقیقی اصلاحات ممکن بنائی جا سکیں۔
آپ کا تبصرہ